npodu

Love Urdu Poetry/ Ghazals by Mustafa Kamal Vol 1

دیکھ نفرت کے حوالوں سے کہاں سمجھیں گے
گائوں کے لوگ ہیں چالوں سے کہاں سمجھیں گے

ٹھوکریں کھا کے ہی سمجھیں گے نئی نسل کے لوگ
چھوڑ ناں یار مثالوں سےکہاں سمجھیں گے

بول ناں ان کو بتا عشق نے کھینچا ہے سکوں
لوگ بکھرے ہوئے بالوں سے کہاں سمجھیں گے

بھوک برداشت سے باہر ہے پرندوں سے تبھی
تیرے پھینکے ہوئے جالوں سے کہاں سمجھیں گے

مصطفیٰ کمال

خوشی کو رد تو اذیت شمار کرتا ہے
وہ اک شخص ہمیں یوں بھی پیار کرتا ہے

مزہ تو جب ہے کہ دشمن بھی خاندانی ہو
کہ عام شخص تو پیچھے سے وار کرتا ہے

وہ پوچھتا ہے محبت کو دِل نہیں کرتا
تو مسکرا کے میں کہتا ہوں یار۔۔۔ کرتاہے

یہ سوچتا ہوں غموں کی دُکان کھولوں گا
نہ کوئی آئے، نہ پوچھے کہ اُدھار کرتا ہے

غضب کا پیار ہے ماں سے کہ وقتِ رُخصت جب
وہ چومتی ہے تو دِل بار بار کرتا ہے
مصطفیٰ کمال

جو بات مجھ کو سمجھ نہیں آرہی کب سے
میں تیرے اِک اشارے سے جان جائوں گا

وہ میرا نام پُکارے گی اور ہنس دے گی
اُسے پتا ہے کہ میں اُسےمان جائوں گا
مصطفیٰ کمال

سکت نہیں ہے سہاروں سے بات کرنی ہے
خدا کے ساتھ اشاروں سے بات کرنی ہے

میرے معیار دا دُکھ دے نہیں سکا دُشمن
یہ بات سوچ کے یاروں سے بات کرنی ہے

اُسے پسند نہیں ہیں دھنک کے کچھ رنگ،سو
نظر نہ آئیں نظاروں سے بات کرنی ہے

اُسے پسند کہاں ہے وہ انتظار کرے
سو طے کیا ہےقطاروں سے بات کرنی ہے

وہ ڈوبتے ہوئے مجھے پکارتا رہا ناں؟
یہ پوچھنا ہے کناروں سے بات کرنی ہے
مصطفیٰ کمال

خواہ مخواہ دُنیا کی نظروں میں گِرا دیتی ہے
زندگی یوں بھی کبھی ہم کو سزا دیتی ہے

عشق سے قبل یہ تکلیف کہاں دیکھی تھی
اب تو ہوہر وقت اذیت بھی مزہ دیتی ہے

مجھ سے وہ شرط لگاتی ہے کہ تو رو کے دِکھا
رونے لگتا ہوں تو وہ پر سے ہنسا دیتی ہے

سب طبیبوں کو دکھایا تھا مگر آخر پر
اُس کے ہاتھوں سے زہر ہم کو شفا دیتی ہے

مجھ گنہگار کی بخشش بھی یقینی ہے کمال
ماں مجھے دیکھ کر ہنستی ہے دُعا دیتی ہے
مصطفیٰ کمال

More Relevant Topics on npodu:

Funny Urdu Poetry By Anwar Masood

Akmal Ameer Gohar

3 comments

Your Header Sidebar area is currently empty. Hurry up and add some widgets.